وارانسی، یکم مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)17 ویں لوک سبھا کے لئے 7 میں سے 4 مراحل میں 372 پارلیمانی سیٹوں پر پولنگ کرائی جا چکی ہے اور باقی سیٹوں پر 3 مراحل میں ووٹنگ کرایا جانا ہے، جس میں ملک کی سب سے ہائی پروفائل سیٹ وارانسی بھی شامل ہے۔وارانسی سے وزیر اعظم نریندر مودی الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کے خلاف انتخابی موسم میں شری بھگوان داس ویدانت آچاریہ نے بھی پرچہ داخل کیا تھا، اگرچہ الیکشن کمیشن نے داخل پرچہ نامزدگی کاغذات کی جانچ کرتے ہوئے بھگوان داس ویدانت آچاریہ کا پرچہ مسترد کر دیا۔وارانسی پارلیمانی سیٹ پر آل انڈیا رام راج کونسل کی جانب سے بھگوان داس ویدانت آچاریہ کو بطور امیدوار نامزدگی داخل کیا تھا، لیکن الیکشن کمیشن نے ان کا پرچہ مسترد کر دیا۔بھگوان داس ویدانت آچاریہ کا پرچہ خارج ہونے کے بعد کلکٹریٹ آفس میں ہنگامہ ہو گیا۔ناراض سنتوں نے فارم خارج ہونے کے معاملے میں الیکشن افسر سے ملنے کا مطالبہ کرنے لگے۔فارم خارج ہونے کے بعد سنت سماج کے کچھ لوگ زبردستی کلکٹریٹ آفس میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے۔سکیورٹی نے جب ان کو روکنے کی کوشش کی تو وہ دھرنے پر بیٹھ گئے اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔آچاریہ کو نامزدگی مسترد ہونے سے سادھو سنت کافی ناراض ہو گئے اور کلکٹر آفس پہنچ کر دھرنا کرنے لگے۔سوامی اومکتیشوراند نے اس پر سختی سے ناراضگی ظاہر کی اور الزام لگایا کہ ہمارا پرچہ کو مسترد کیا جا رہا ہے وہ وزیر اعظم کے دباؤ میں کیا جا رہا ہے،عوامی جمہوریت کا قتل ہے، آمریت ہے اور یہ بہت غلط بات ہے،ہم اس کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کریں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ میں انتخابات لڑنے کے لئے ملک بھر کے مختلف علاقوں سے آئے 102 امیدواروں نے 119 پرچہ نامزدگی داخل کئے تھے،تقریباََ 13 گھنٹے پرچوں کی جانچ چلی جس میں 71 امیدواروں کے پرچہ نامزدگی منسوخ کر دیے گئے۔اس طرح سے 31 پرچے جائز پائے گئے۔